8 اشعار

ہم نے کاٹی ہیں تری یاد میں راتیں اکثر

Hum ne kaati hain teri yaad mein raatein aksar

ہم نے کاٹی ہیں تری یاد میں راتیں اکثر

«ہم نے کاٹی ہیں تری یاد میں راتیں اکثر» جان نثار اختر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 1 سیکنڈ ہے۔

ہم نے کاٹی ہیں تری یاد میں راتیں اکثردل سے گزری ہیں ستاروں کی براتیں اکثر

اور تو کون ہے جو مجھ کو تسلی دیتاہاتھ رکھ دیتی ہیں دل پر تری باتیں اکثر

حسن شائستۂ تہذیب الم ہے شایدغم زدہ لگتی ہیں کیوں چاندنی راتیں اکثر

حال کہنا ہے کسی سے تو مخاطب ہے کوئیکتنی دلچسپ ہوا کرتی ہیں باتیں اکثر

عشق رہزن نہ سہی عشق کے ہاتھوں پھر بھیہم نے لٹتی ہوئی دیکھی ہیں براتیں اکثر

ہم سے اک بار بھی جیتا ہے نہ جیتے گا کوئیوہ تو ہم جان کے کھا لیتے ہیں ماتیں اکثر

ان سے پوچھو کبھی چہرے بھی پڑھے ہیں تم نےجو کتابوں کی کیا کرتے ہیں باتیں اکثر

ہم نے ان تند ہواؤں میں جلائے ہیں چراغجن ہواؤں نے الٹ دی ہیں بساطیں اکثر

— جان نثار اختر