5 اشعار

جب لگیں زخم تو قاتل کو دعا دی جائے

Jab lagein zakhm to qaatil ko duaa di jaaye

جب لگیں زخم تو قاتل کو دعا دی جائے

«جب لگیں زخم تو قاتل کو دعا دی جائے» جان نثار اختر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 33 سیکنڈ ہے۔

جب لگیں زخم تو قاتل کو دعا دی جائےہے یہی رسم تو یہ رسم اٹھا دی جائے

دل کا وہ حال ہوا ہے غم دوراں کے تلےجیسے اک لاش چٹانوں میں دبا دی جائے

انہیں گل رنگ دریچوں سے سحر جھانکے گیکیوں نہ کھلتے ہوئے زخموں کو دعا دی جائے

کم نہیں نشے میں جاڑے کی گلابی راتیںاور اگر تیری جوانی بھی ملا دی جائے

ہم سے پوچھو کہ غزل کیا ہے غزل کا فن کیاچند لفظوں میں کوئی آگ چھپا دی جائے

— جان نثار اختر