7 اشعار

جسم کی ہر بات ہے آوارگی یہ مت کہو

Jism ki har baat hai aawaargi yeh mat kaho

جسم کی ہر بات ہے آوارگی یہ مت کہو

«جسم کی ہر بات ہے آوارگی یہ مت کہو» جان نثار اختر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 57 سیکنڈ ہے۔

جسم کی ہر بات ہے آوارگی یہ مت کہوہم بھی کر سکتے ہیں ایسی شاعری یہ مت کہو

اس نظر کی اس بدن کی گنگناہٹ تو سنوایک سی ہوتی ہے ہر اک راگنی یہ مت کہو

ہم سے دیوانوں کے بن دنیا سنورتی کس طرحعقل کے آگے ہے کیا دیوانگی یہ مت کہو

کٹ سکی ہیں آج تک سونے کی زنجیریں کہاںہم بھی اب آزاد ہیں یارو ابھی یہ مت کہو

پاؤں اتنے تیز ہیں اٹھتے نظر آتے نہیںآج تھک کر رہ گیا ہے آدمی یہ مت کہو

جتنے وعدے کل تھے اتنے آج بھی موجود ہیںان کے وعدوں میں ہوئی ہے کچھ کمی یہ مت کہو

دل میں اپنے درد کی چھٹکی ہوئی ہے چاندنیہر طرف پھیلی ہوئی ہے تیرگی یہ مت کہو

— جان نثار اختر