10 اشعار

خود بہ خود مے ہے کہ شیشے میں بھری آوے ہے

Khud ba khud mai hai ke sheeshe mein bhari aave hai

خود بہ خود مے ہے کہ شیشے میں بھری آوے ہے

«خود بہ خود مے ہے کہ شیشے میں بھری آوے ہے» جان نثار اختر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 4 سیکنڈ ہے۔

خود بہ خود مے ہے کہ شیشے میں بھری آوے ہےکس بلا کی تمہیں جادو نظری آوے ہے

دل میں در آوے ہے ہر صبح کوئی یاد ایسےجوں دبے پاؤں نسیم سحری آوے ہے

اور بھی زخم ہوئے جاتے ہیں گہرے دل کےہم تو سمجھے تھے تمہیں چارہ گری آوے ہے

ایک قطرہ بھی لہو جب نہ رہے سینے میںتب کہیں عشق میں کچھ بے جگری آوے ہے

چاک داماں و گریباں کے بھی آداب ہیں کچھہر دوانے کو کہاں جامہ دری آوے ہے

شجر عشق تو مانگے ہے لہو کے آنسوتب کہیں جا کے کوئی شاخ ہری آوے ہے

تو کبھی راگ کبھی رنگ کبھی خوشبو ہےکیسی کیسی نہ تجھے عشوہ گری آوے ہے

آپ اپنے کو بھلانا کوئی آسان نہیںبڑی مشکل سے میاں بے خبری آوے ہے

اے مرے شہر نگاراں ترا کیا حال ہواچپے چپے پہ مرے آنکھ بھری آوے ہے

صاحبو حسن کی پہچان کوئی کھیل نہیںدل لہو ہو تو کہیں دیدہ وری آوے ہے

— جان نثار اختر