5 اشعار

لاکھ آوارہ سہی شہروں کے فٹ پاتھوں پہ ہم

Laakh aawara sahi shahroN ke futpaathon pe hum

لاکھ آوارہ سہی شہروں کے فٹ پاتھوں پہ ہم

«لاکھ آوارہ سہی شہروں کے فٹ پاتھوں پہ ہم» جان نثار اختر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 34 سیکنڈ ہے۔

لاکھ آوارہ سہی شہروں کے فٹ پاتھوں پہ ہملاش یہ کس کی لیے پھرتے ہیں ان ہاتھوں پہ ہم

اب انہیں باتوں کو سنتے ہیں تو آتی ہے ہنسیبے طرح ایمان لے آئے تھے جن باتوں پہ ہم

کوئی بھی موسم ہو دل کی آگ کم ہوتی نہیںمفت کا الزام رکھ دیتے برساتوں پہ ہم

زلف سے چھنتی ہوئی اس کے بدن کی تابشیںہنس دیا کرتے تھے اکثر چاندنی راتوں پہ ہم

اب انہیں پہچانتے بھی شرم آتی ہے ہمیںفخر کرتے تھے کبھی جن کی ملاقاتوں پہ ہم

— جان نثار اختر