8 اشعار

موج گل موج صبا موج سحر لگتی ہے

Mauj-e-gul mauj-e-saba mauj-e-sahar lagti hai

موج گل موج صبا موج سحر لگتی ہے

«موج گل موج صبا موج سحر لگتی ہے» جان نثار اختر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 59 سیکنڈ ہے۔

موج گل موج صبا موج سحر لگتی ہےسر سے پا تک وہ سماں ہے کہ نظر لگتی ہے

ہم نے ہر گام پہ سجدوں کے جلائے ہیں چراغاب ہمیں تیری گلی راہ گزر لگتی ہے

لمحے لمحے میں بسی ہے تری یادوں کی مہکآج کی رات تو خوشبو کا سفر لگتی ہے

جل گیا اپنا نشیمن تو کوئی بات نہیںدیکھنا یہ ہے کہ اب آگ کدھر لگتی ہے

ساری دنیا میں غریبوں کا لہو بہتا ہےہر زمیں مجھ کو مرے خون سے تر لگتی ہے

کوئی آسودہ نہیں اہل سیاست کے سوایہ صدی دشمن ارباب ہنر لگتی ہے

واقعہ شہر میں کل تو کوئی ایسا نہ ہوایہ تو اخبار کے دفتر کی خبر لگتی ہے

لکھنؤ کیا تری گلیوں کا مقدر تھا یہیہر گلی آج تری خاک بسر لگتی ہے

— جان نثار اختر