9 اشعار

مدت ہوئی اس جان حیا نے ہم سے یہ اقرار کیا

Muddat hui us jaan-e-haya ne hum se yeh iqraar kiya

مدت ہوئی اس جان حیا نے ہم سے یہ اقرار کیا

«مدت ہوئی اس جان حیا نے ہم سے یہ اقرار کیا» جان نثار اختر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 21 سیکنڈ ہے۔

مدت ہوئی اس جان حیا نے ہم سے یہ اقرار کیاجتنے بھی بد نام ہوئے ہم اتنا اس نے پیار کیا

پہلے بھی خوش چشموں میں ہم چوکنا سے رہتے تھےتیری سوئی آنکھوں نے تو اور ہمیں ہوشیار کیا

جاتے جاتے کوئی ہم سے اچھے رہنا کہہ تو گیاپوچھے لیکن پوچھنے والے کس نے یہ بیمار کیا

قطرہ قطرہ صرف ہوا ہے عشق میں اپنے دل کا لہوشکل دکھائی تب اس نے جب آنکھوں کو خوں بار کیا

ہم پر کتنی بار پڑے یہ دورے بھی تنہائی کےجو بھی ہم سے ملنے آیا ملنے سے انکار کیا

عشق میں کیا نقصان نفع ہے ہم کو کیا سمجھاتے ہوہم نے ساری عمر ہی یارو دل کا کاروبار کیا

محفل پر جب نیند سی چھائی سب کے سب خاموش ہوئےہم نے تب کچھ شعر سنایا لوگوں کو بے دار کیا

اب تم سوچو اب تم جانو جو چاہو اب رنگ بھروہم نے تو اک نقشہ کھینچا اک خاکہ تیار کیا

دیش سے جب پردیش سدھارے ہم پر یہ بھی وقت پڑانظمیں چھوڑی غزلیں چھوڑی گیتوں کا بیوپار کیا

— جان نثار اختر