9 اشعار

رنج و غم مانگے ہے اندوہ و بلا مانگے ہے

Ranj-o-gham maange hai andoh-o-bala maange hai

رنج و غم مانگے ہے اندوہ و بلا مانگے ہے

«رنج و غم مانگے ہے اندوہ و بلا مانگے ہے» جان نثار اختر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 17 سیکنڈ ہے۔

رنج و غم مانگے ہے اندوہ و بلا مانگے ہےدل وہ مجرم ہے کہ خود اپنی سزا مانگے ہے

چپ ہے ہر زخم گلو چپ ہے شہیدوں کا لہودست قاتل ہے جو محنت کا صلہ مانگے ہے

تو بھی اک دولت نایاب ہے پر کیا کہیےزندگی اور بھی کچھ تیرے سوا مانگے ہے

کھوئی کھوئی یہ نگاہیں یہ خمیدہ پلکیںہاتھ اٹھائے کوئی جس طرح دعا مانگے ہے

راس اب آئے گی اشکوں کی نہ آہوں کی فضاآج کا پیار نئی آب و ہوا مانگے ہے

بانسری کا کوئی نغمہ نہ سہی چیخ سہیہر سکوت شب غم کوئی صدا مانگے ہے

لاکھ منکر سہی پر ذوق پرستش میراآج بھی کوئی صنم کوئی خدا مانگے ہے

سانس ویسے ہی زمانے کی رکی جاتی ہےوہ بدن اور بھی کچھ تنگ قبا مانگے ہے

دل ہر اک حال سے بیگانہ ہوا جاتا ہےاب توجہ نہ تغافل نہ ادا مانگے ہے

— جان نثار اختر