5 اشعار

سو چاند بھی چمکیں گے تو کیا بات بنے گی

Sau chaand bhi chamkeinge to kya baat bane gi

سو چاند بھی چمکیں گے تو کیا بات بنے گی

«سو چاند بھی چمکیں گے تو کیا بات بنے گی» جان نثار اختر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 38 سیکنڈ ہے۔

سو چاند بھی چمکیں گے تو کیا بات بنے گیتم آئے تو اس رات کی اوقات بنے گی

ان سے یہی کہہ آئیں کہ اب ہم نہ ملیں گےآخر کوئی تقریب ملاقات بنے گی

اے ناوک غم دل میں ہے اک بوند لہو کیکچھ اور تو کیا ہم سے مدارات بنے گی

یہ ہم سے نہ ہوگا کہ کسی ایک کو چاہیںاے عشق ہماری نہ ترے سات بنے گی

یہ کیا ہے کہ بڑھتے چلو بڑھتے چلو آگےجب بیٹھ کے سوچیں گے تو کچھ بات بنے گی

— جان نثار اختر