4 اشعار

صبح کے درد کو راتوں کی جلن کو بھولیں

Subah ke dard ko raaton ki jalan ko bhoolein

صبح کے درد کو راتوں کی جلن کو بھولیں

«صبح کے درد کو راتوں کی جلن کو بھولیں» جان نثار اختر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 33 سیکنڈ ہے۔

صبح کے درد کو راتوں کی جلن کو بھولیںکس کے گھر جائیں کہ اس وعدہ شکن کو بھولیں

آج تک چوٹ دبائے نہیں دبتی دل کیکس طرح اس صنم سنگ بدن کو بھولیں

اب سوا اس کے مداوائے غم دل کیا ہےاتنی پی جائیں کہ ہر رنج و محن کو بھولیں

اور تہذیب غم عشق نبھا دیں کچھ دنآخری وقت میں کیا اپنے چلن کو بھولیں

— جان نثار اختر