5 اشعار

تمام عمر عذابوں کا سلسلہ تو رہا

Tamaam umr azaabon ka silsila to raha

تمام عمر عذابوں کا سلسلہ تو رہا

«تمام عمر عذابوں کا سلسلہ تو رہا» جان نثار اختر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 30 سیکنڈ ہے۔

تمام عمر عذابوں کا سلسلہ تو رہایہ کم نہیں ہمیں جینے کا حوصلہ تو رہا

گزر ہی آئے کسی طرح تیرے دیوانےقدم قدم پہ کوئی سخت مرحلہ تو رہا

چلو نہ عشق ہی جیتا نہ عقل ہار سکیتمام وقت مزے کا مقابلہ تو رہا

میں تیری ذات میں گم ہو سکا نہ تو مجھ میںبہت قریب تھے ہم پھر بھی فاصلہ تو رہا

یہ اور بات کہ ہر چھیڑ لاابالی تھیتری نظر کا دلوں سے معاملہ تو رہا

— جان نثار اختر