7 اشعار

تمہارے جشن کو جشن فروزاں ہم نہیں کہتے

Tumhare jashn ko jashn-e-furozan hum nahin kehte

تمہارے جشن کو جشن فروزاں ہم نہیں کہتے

«تمہارے جشن کو جشن فروزاں ہم نہیں کہتے» جان نثار اختر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 52 سیکنڈ ہے۔

تمہارے جشن کو جشن فروزاں ہم نہیں کہتےلہو کی گرم بوندوں کو چراغاں ہم نہیں کہتے

اگر حد سے گزر جائے دوا تو بن نہیں جاتاکسی بھی درد کو دنیا کا درماں ہم نہیں کہتے

نظر کی انتہا کوئی نہ دل کی انتہا کوئیکسی بھی حسن کو حسن فراواں ہم نہیں کہتے

کسی عاشق کے شانے پر بکھر جائے تو کیا کہنامگر اس زلف کو زلف پریشاں ہم نہیں کہتے

نہ بوئے گل مہکتی ہے نہ شاخ گل لچکتی ہےابھی اپنے گلستاں کو گلستاں ہم نہیں کہتے

بہاروں سے جنوں کو ہر طرح نسبت سہی لیکنشگفت گل کو عاشق کا گریباں ہم نہیں کہتے

ہزاروں سال بیتے ہیں ہزاروں سال بیتیں گےبدل جائے گی کل تقدیر انساں ہم نہیں کہتے

— جان نثار اختر