9 اشعار

میرے کمرے سے نکل کر دائرے

Mere kamre se nikal kar daayre

میرے کمرے سے نکل کر دائرے

«میرے کمرے سے نکل کر دائرے» کیف احمد صدیقی کا کلام ہے، جسے گلشن شیرازی نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «تنہائیوں کو سونپ کے تاریکیوں کا زہر کیف احمد صدیقی» میں 12 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 9 سیکنڈ ہے۔

میرے کمرے سے نکل کر دائرےپھیلتے جاتے ہیں گھر گھر دائرے

اور در بھی کچھ نشر ہونے لگےایک مرکز پر سمٹ کر دائرے

وقت کی دہلیز پر سر پھوڑتےٹوٹنے لمحوں کے اندر دائرے

خود ہی اکثر خود کشی کرنے لگےدائروں سے تنگ آکر دائرے

ساری دنیا کو مقید کر گئےآسمانوں سے اُتر کر دائرے

توڑ کر ایک دائرہ نکلے جو ہمبل رہے ہیں ہر قدم پر دائرے

اب انھیں میں قید رہیئے عمر بھربن گئے سب کا مقدر دائرے

شرخ موجیں لے کے آئے تھےمگر بن گئے کالا سمندر دائرے

کیف اب آزادیوں کے نام پربن رہے ہیں دائروں پر دائر نے

— کیف احمد صدیقی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں