روز مرغا بنا کرے کوئی
کلام: کیف احمد صدیقی
روز مرغا بنا کرے کوئیکب تک آخر پٹا کرے کوئی
جب کہیں نوکری نہیں ملتیڈگریاں لے کے کیا کرے کوئی
تنہائیوں کو سونپ کے تاریکیوں کا زہر کیف احمد صدیقی
مہمان شاعر: کیف احمد صدیقی
روز مرغا بنا کرے کوئیکب تک آخر پٹا کرے کوئی
جب کہیں نوکری نہیں ملتیڈگریاں لے کے کیا کرے کوئی
میرے کمرے سے نکل کر دائرےپھیلتے جاتے ہیں گھر گھر دائرے
اور در بھی کچھ نشر ہونے لگےایک مرکز پر سمٹ کر دائرے