7 اشعار

آج پھر شاخ سے گرے پتے

Aaj phir shaakh se gire patte

آج پھر شاخ سے گرے پتے

«آج پھر شاخ سے گرے پتے» کیف احمد صدیقی کا کلام ہے، جسے یادرفتگان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «تنہائیوں کو سونپ کے تاریکیوں کا زہر کیف احمد صدیقی» میں 12 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 48 سیکنڈ ہے۔

آج پھر شاخ سے گرے پتےاور مٹی میں مل گئے پتے

جانے کس دشت کی تلاش میں ہیںریگزاروں میں چیختے پتے

کل جنہیں آسماں پہ دیکھا تھاآج پاتال میں ملے پتے

اپنی آواز ہی سے خوف زدہشاخ در شاخ کانپتے پتے

مجھ کو اک برگ خشک بھی نہ ملااب کہاں باغ میں ہرے پتے

سارے گلشن کو دے گئے سونااور خود خاک بن گئے پتے

کیفؔ ویرانیٔ گلستاں بھیبعض اوقات لے اڑے پتے

— کیف احمد صدیقی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں