7 اشعار

یہ پیلی شاخ پر بیٹھے ہوئے پیلے پرندے

Yeh peeli shaakh par baithe hue peele parinde

یہ پیلی شاخ پر بیٹھے ہوئے پیلے پرندے

«یہ پیلی شاخ پر بیٹھے ہوئے پیلے پرندے» کیف احمد صدیقی کا کلام ہے، جسے انتظار حسین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «تنہائیوں کو سونپ کے تاریکیوں کا زہر کیف احمد صدیقی» میں 12 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 56 سیکنڈ ہے۔

یہ پیلی شاخ پر بیٹھے ہوئے پیلے پرندےلرزتی دھوپ کی آغوش میں سہمے پرندے

خدا معلوم کس آواز کے پیاسے پرندےوہ دیکھو خامشی کی جھیل میں اترے پرندے

مرے کمرے کی ویرانی سے اکتائے پرندےسلگتی دوپہر میں کس طرف جاتے پرندے

حصار جسم سے گھبرا کے جب نکلے پرندےہوا کی زد میں آ کر دیر تک چیخے پرندے

خود اپنے شعلۂ پرواز سے جلتے پرندےخلائے یخ زدہ میں رہ کے بھی سلگے پرندے

مرے دست ہوس آلود سے اڑتے پرندےکسی شاخ جوانی تک نہیں پہنچے پرندے

ازل سے اک حسیں خوشبو کے دیوانے پرندےابد تک کیفؔ دشت رنگ میں بھٹکے پرندے

— کیف احمد صدیقی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں