10 اشعار

مجھ کو تعلیم سے نفرت ہی سہی

Mujh ko taleem se nafrat hi sahi

مجھ کو تعلیم سے نفرت ہی سہی

«مجھ کو تعلیم سے نفرت ہی سہی» کیف احمد صدیقی کا کلام ہے، جسے سید جینٹلمین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «تنہائیوں کو سونپ کے تاریکیوں کا زہر کیف احمد صدیقی» میں 12 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 1 سیکنڈ ہے۔

مجھ کو تعلیم سے نفرت ہی سہیاور کھیلوں سے محبت ہی سہی

میں نے اس سے تو بڑے کام لیےآپ کو کھیل سے وحشت ہی سہی

امتحاں سے میں نہیں گھبراتافیل ہونا مری قسمت ہی سہی

پڑھنے والوں نے بھی کیا کچھ نہ کیانقل کرنا مری عادت ہی سہی

میں نے تو صرف گزارش کی تھیسب کی نظروں میں شکایت ہی سہی

میں کسی سے نہ لڑوں گا ہرگزدب کے رہنا مری فطرت ہی سہی

میں نہ چھوڑوں گا شرافت کا چلنیہ شرافت مری ذلت ہی سہی

کبھی چومے گی قدم خود منزلآج ہر گام پہ دقت ہی سہی

یہ مصیبت بھی بڑی دل کش ہےزندگی ایک مصیبت ہی سہی

کیفؔ اک دن یہ بنا دے گی تجھےشعر گوئی تری عادت ہی سہی

— کیف احمد صدیقی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں