9 اشعار

مجھے نقل پر بھی اتنا اگر اختیار ہوتا

Mujhe naql par bhi itna agar ikhtiyar hota

مجھے نقل پر بھی اتنا اگر اختیار ہوتا

«مجھے نقل پر بھی اتنا اگر اختیار ہوتا» کیف احمد صدیقی کا کلام ہے، جسے حسین بلوچ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «تنہائیوں کو سونپ کے تاریکیوں کا زہر کیف احمد صدیقی» میں 12 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 11 سیکنڈ ہے۔

مجھے نقل پر بھی اتنا اگر اختیار ہوتاکبھی فیل امتحاں میں نہ میں بار بار ہوتا

جو میں فیل ہو گیا تو سبھی دے رہے ہیں طعنےکوئی دل نواز ہوتا کوئی غم گسار ہوتا

مجھے آج اتنی نفرت سے نہ دیکھتی یہ دنیاجو پڑھائی سے ذرا بھی مرے دل کو پیار ہوتا

مرے ماسٹر نہ ہوتے جو علوم و فن میں داناکبھی مولیٰ بخش صاحب کا نہ میں شکار ہوتا

وہ پڑھاتے وقت درجے میں ہزار بار برسےجو مجھے بھی چھینک آتی انہیں ناگوار ہوتا

نہ میں تندرست ہوتا نہ کبھی اسکول جاتاکبھی سر میں درد رہتا تو کبھی بخار ہوتا

کبھی مدرسے میں آتا کوئی ایسا چاٹ والاکہ جو مفت میں کھلاتا نہ کبھی ادھار ہوتا

یہ گدھا جو اپنی غفلت سے ہے بےوقوف اتناجو یہ خود کو جان جاتا بڑا ہوشیار ہوتا

ترے گھر میں کیفؔ تیرا کوئی قدرداں نہیں ہےجو وطن سے دور ہوتا تو بڑا وقار ہوتا

— کیف احمد صدیقی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں