مجھ کو تعلیم سے نفرت ہی سہی
کلام: کیف احمد صدیقی
مجھ کو تعلیم سے نفرت ہی سہیاور کھیلوں سے محبت ہی سہی
میں نے اس سے تو بڑے کام لیےآپ کو کھیل سے وحشت ہی سہی
تنہائیوں کو سونپ کے تاریکیوں کا زہر کیف احمد صدیقی
مہمان شاعر: کیف احمد صدیقی
مجھ کو تعلیم سے نفرت ہی سہیاور کھیلوں سے محبت ہی سہی
میں نے اس سے تو بڑے کام لیےآپ کو کھیل سے وحشت ہی سہی