دنیا میں کچھ اپنے ہیں کچھ بیگانے الفاظ
کلام: کیف احمد صدیقی
دنیا میں کچھ اپنے ہیں کچھ بیگانے الفاظکس کو اتنی فرصت ہے جو پہچانے الفاظ
ریگ علامت میں بھی جل کر پا نہ سکے مفہومصحرائے معنی میں بھی بھٹکے انجانے الفاظ
تنہائیوں کو سونپ کے تاریکیوں کا زہر کیف احمد صدیقی
مہمان شاعر: کیف احمد صدیقی
دنیا میں کچھ اپنے ہیں کچھ بیگانے الفاظکس کو اتنی فرصت ہے جو پہچانے الفاظ
ریگ علامت میں بھی جل کر پا نہ سکے مفہومصحرائے معنی میں بھی بھٹکے انجانے الفاظ
مجھے نقل پر بھی اتنا اگر اختیار ہوتاکبھی فیل امتحاں میں نہ میں بار بار ہوتا
جو میں فیل ہو گیا تو سبھی دے رہے ہیں طعنےکوئی دل نواز ہوتا کوئی غم گسار ہوتا