8 اشعار

تھوڑا سا عکس چاند کے پیکر میں ڈال دے

Thoda sa aks chand ke paikar mein daal de

تھوڑا سا عکس چاند کے پیکر میں ڈال دے

«تھوڑا سا عکس چاند کے پیکر میں ڈال دے» کیف بھوپالی کا کلام ہے، جسے ملک افراسیاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «داغ دنیا نے دئیے زخم زمانے سے ملے کیف بھوپالی» میں 13 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 2 سیکنڈ ہے۔

تھوڑا سا عکس چاند کے پیکر میں ڈال دےتو آ کے جان رات کے منظر میں ڈال دے

جس دن مری جبیں کسی دہلیز پر جھکےاس دن خدا شگاف مرے سر میں ڈال دے

اللہ تیرے ساتھ ہے ملاح کو نہ دیکھیہ ٹوٹی پھوٹی ناؤ سمندر میں ڈال دے

آ تیرے مال و زر کو میں تقدیس بخش دوںلا اپنا مال و زر مری ٹھوکر میں ڈال دے

بھاگ ایسے رہنما سے جو لگتا ہے خضر ساجانے یہ کس جگہ تجھے چکر میں ڈال دے

اس سے ترے مکان کا منظر ہے بد نماچنگاری میرے پھوس کے چھپر میں ڈال دے

میں نے پناہ دی تجھے بارش کی رات میںتو جاتے جاتے آگ مرے گھر میں ڈال دے

اے کیفؔ جاگتے تجھے پچھلا پہر ہوااب لاش جیسے جسم کو بستر میں ڈال دے

— کیف بھوپالی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں