8 اشعار

جس پہ تری شمشیر نہیں ہے

Jis pe teri shamsheer nahin hai

جس پہ تری شمشیر نہیں ہے

«جس پہ تری شمشیر نہیں ہے» کیف بھوپالی کا کلام ہے، جسے راجا اکرام قمر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «داغ دنیا نے دئیے زخم زمانے سے ملے کیف بھوپالی» میں 13 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 44 سیکنڈ ہے۔

جس پہ تری شمشیر نہیں ہےاس کی کوئی توقیر نہیں ہے

اس نے یہ کہہ کر پھیر دیا خطخون سے کیوں تحریر نہیں ہے

زخم جگر میں جھانک کے دیکھوکیا یہ تمہارا تیر نہیں ہے

زخم لگے ہیں کھلنے گلچیںیہ تو تری جاگیر نہیں ہے

شہر میں یوم امن ہے واعظآج تری تقریر نہیں ہے

اودی گھٹا تو واپس ہو جاآج کوئی تدبیر نہیں ہے

شہر محبت کا یوں اجڑادور تلک تعمیر نہیں ہے

اتنی حیا کیوں آئینے سےیہ تو مری تصویر نہیں ہے

— کیف بھوپالی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں