8 اشعار

نہ آیا مزہ شب کی تنہائیوں میں

Na aaya maza shab ki tanhaiyon mein

نہ آیا مزہ شب کی تنہائیوں میں

«نہ آیا مزہ شب کی تنہائیوں میں» کیف بھوپالی کا کلام ہے، جسے سید جینٹلمین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «داغ دنیا نے دئیے زخم زمانے سے ملے کیف بھوپالی» میں 13 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 59 سیکنڈ ہے۔

نہ آیا مزہ شب کی تنہائیوں میںسحر ہو گئی چند انگڑائیوں میں

نہ رنگینیوں میں نہ رعنائیوں میںنظر گھر گئی اپنی پرچھائیوں میں

مجھے مسکرا مسکرا کر نہ دیکھومرے ساتھ تم بھی ہو رسوائیوں میں

غضب ہو گیا ان کی محفل سے آناگھرا جا رہا ہوں تماشائیوں میں

محبت ہے یا آج ترک محبتذرا مل تو جائیں وہ تنہائیوں میں

ادھر آؤ تم کو نظر لگ نہ جائےچھپا لوں تمہیں دل کی گہرائیوں میں

ارے سننے والو یہ نغمے نہیں ہیںمرے دل کی چیخیں ہیں شہنائیوں میں

وہ اے کیفؔ جس دن سے میرے ہوئے ہیںتو سارا زمانہ ہے شیدائیوں میں

— کیف بھوپالی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں