6 اشعار

تیرا چہرہ صبح کا تارا لگتا ہے

Tera chehra subah ka taara lagta hai

تیرا چہرہ صبح کا تارا لگتا ہے

«تیرا چہرہ صبح کا تارا لگتا ہے» کیف بھوپالی کا کلام ہے، جسے ندیم بخاری نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «داغ دنیا نے دئیے زخم زمانے سے ملے کیف بھوپالی» میں 13 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 42 سیکنڈ ہے۔

تیرا چہرہ صبح کا تارا لگتا ہےصبح کا تارا کتنا پیارا لگتا ہے

تم سے مل کر املی میٹھی لگتی ہےتم سے بچھڑ کر شہد بھی کھارا لگتا ہے

رات ہمارے ساتھ تو جاگا کرتا ہےچاند بتا تو کون ہمارا لگتا ہے

کس کو خبر یہ کتنی قیامت ڈھاتا ہےیہ لڑکا جو اتنا بیچارہ لگتا ہے

تتلی چمن میں پھول سے لپٹی رہتی ہےپھر بھی چمن میں پھول کنوارا لگتا ہے

کیفؔ وہ کل کا کیفؔ کہاں ہے آج میاںیہ تو کوئی وقت کا مارا لگتا ہے

— کیف بھوپالی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں