7 اشعار

اعتکاف میں زاہد منہ چھپائے بیٹھا ہے

Eitikaaf mein zahid munh chhupaye baitha hai

اعتکاف میں زاہد منہ چھپائے بیٹھا ہے

«اعتکاف میں زاہد منہ چھپائے بیٹھا ہے» کیف بھوپالی کا کلام ہے، جسے نور مائیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «داغ دنیا نے دئیے زخم زمانے سے ملے کیف بھوپالی» میں 13 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ ہے۔

اعتکاف میں زاہد منہ چھپائے بیٹھا ہےغالباً زمانے سے مات کھائے بیٹھا ہے

وائے عاشق ناداں کائنات یہ تیریاک شکستہ شیشے کو دل بنائے بیٹھا ہے

طالبان دید ان کے دھوپ دھوپ پھرتے ہیںغیر ان کے کوچے میں سائے سائے بیٹھا ہے

اس طرف بھی اے صاحب التفات یک مژگاںاک غریب محفل میں سر جھکائے بیٹھا ہے

دور باش اے گلچیں وا ہے دیدۂ نرگسآج ہر گل نازک خار کھائے بیٹھا ہے

کیوں سنا نہیں دیتا فیصلہ مقدر کانامہ بر مرے آگے خط چھپائے بیٹھا ہے

صبح کی ہوا ان سے صرف اتنا کہہ دیناکوئی شمع کی اب تک لو بڑھائے بیٹھا ہے

— کیف بھوپالی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں