سلام اس پر اگر ایسا کوئی فن کار ہو جائے
کلام: کیف بھوپالی
سلام اس پر اگر ایسا کوئی فن کار ہو جائےسیاہی خون بن جائے قلم تلوار ہو جائے
زمانے سے کہو کچھ صاعقہ رفتار ہو جائےہمارے ساتھ چلنے کے لیے تیار ہو جائے
داغ دنیا نے دئیے زخم زمانے سے ملے کیف بھوپالی
مہمان شاعر: کیف احمد صدیقی
سلام اس پر اگر ایسا کوئی فن کار ہو جائےسیاہی خون بن جائے قلم تلوار ہو جائے
زمانے سے کہو کچھ صاعقہ رفتار ہو جائےہمارے ساتھ چلنے کے لیے تیار ہو جائے
اعتکاف میں زاہد منہ چھپائے بیٹھا ہےغالباً زمانے سے مات کھائے بیٹھا ہے
وائے عاشق ناداں کائنات یہ تیریاک شکستہ شیشے کو دل بنائے بیٹھا ہے