4 اشعار

کام یہی ہے شام سویرے

Kaam yahi hai sham savere

کام یہی ہے شام سویرے

«کام یہی ہے شام سویرے» کیف بھوپالی کا کلام ہے، جسے انتظار حسین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «داغ دنیا نے دئیے زخم زمانے سے ملے کیف بھوپالی» میں 13 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 27 سیکنڈ ہے۔

کام یہی ہے شام سویرےتیری گلی کے سو سو پھیرے

سامنے وہ ہیں زلف بکھیرےکتنے حسیں ہیں آج اندھیرے

ہم تو ہیں تیرے پوجنے والےپاؤں نہ پڑوا تیرے میرے

دل کو چرایا خیر چرایاآنکھ چرا کر جا نہ لٹیرے

— کیف بھوپالی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں