کام یہی ہے شام سویرے
کلام: کیف بھوپالی
کام یہی ہے شام سویرےتیری گلی کے سو سو پھیرے
سامنے وہ ہیں زلف بکھیرےکتنے حسیں ہیں آج اندھیرے
داغ دنیا نے دئیے زخم زمانے سے ملے کیف بھوپالی
مہمان شاعر: کیف احمد صدیقی
کام یہی ہے شام سویرےتیری گلی کے سو سو پھیرے
سامنے وہ ہیں زلف بکھیرےکتنے حسیں ہیں آج اندھیرے
گردش ارض و سماوات نے جینے نہ دیاکٹ گیا دن تو ہمیں رات نے جینے نہ دیا
کچھ محبت کو نہ تھا چین سے رکھنا منظوراور کچھ ان کی عنایات نے جینے نہ دیا