نہ آیا مزہ شب کی تنہائیوں میں
کلام: کیف بھوپالی
نہ آیا مزہ شب کی تنہائیوں میںسحر ہو گئی چند انگڑائیوں میں
نہ رنگینیوں میں نہ رعنائیوں میںنظر گھر گئی اپنی پرچھائیوں میں
داغ دنیا نے دئیے زخم زمانے سے ملے کیف بھوپالی
مہمان شاعر: کیف احمد صدیقی
نہ آیا مزہ شب کی تنہائیوں میںسحر ہو گئی چند انگڑائیوں میں
نہ رنگینیوں میں نہ رعنائیوں میںنظر گھر گئی اپنی پرچھائیوں میں
تجھے کون جانتا تھا مری دوستی سے پہلےترا حسن کچھ نہیں تھا مری شاعری سے پہلے
ادھر آ رقیب میرے میں تجھے گلے لگا لوںمرا عشق بے مزا تھا تری دشمنی سے پہلے