5 اشعار

سلام اس پر اگر ایسا کوئی فن کار ہو جائے

Salam us par agar aisa koi funkaar ho jaaye

سلام اس پر اگر ایسا کوئی فن کار ہو جائے

«سلام اس پر اگر ایسا کوئی فن کار ہو جائے» کیف بھوپالی کا کلام ہے، جسے نور مائیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «داغ دنیا نے دئیے زخم زمانے سے ملے کیف بھوپالی» میں 13 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 41 سیکنڈ ہے۔

سلام اس پر اگر ایسا کوئی فن کار ہو جائےسیاہی خون بن جائے قلم تلوار ہو جائے

زمانے سے کہو کچھ صاعقہ رفتار ہو جائےہمارے ساتھ چلنے کے لیے تیار ہو جائے

زمانے کو تمنا ہے ترا دیدار کرنے کیمجھے یہ فکر ہے مجھ کو مرا دیدار ہو جائے

وہ زلفیں سانپ ہیں بے شک اگر زنجیر بن جائیںمحبت زہر ہے بے شک اگر آزار ہو جائے

محبت سے تمہیں سرکار کہتے ہیں وگرنہ ہمنگاہیں ڈال دیں جس پر وہی سرکار ہو جائے

— کیف بھوپالی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں