5 اشعار

یہ داڑھیاں یہ تلک دھاریاں نہیں چلتیں

Yeh dadhiyan yeh tilak dhariyan nahin chaltin

یہ داڑھیاں یہ تلک دھاریاں نہیں چلتیں

«یہ داڑھیاں یہ تلک دھاریاں نہیں چلتیں» کیف بھوپالی کا کلام ہے، جسے ندیم بخاری نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «داغ دنیا نے دئیے زخم زمانے سے ملے کیف بھوپالی» میں 13 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 3 منٹ 16 سیکنڈ ہے۔

یہ داڑھیاں یہ تلک دھاریاں نہیں چلتیںہمارے عہد میں مکاریاں نہیں چلتیں

قبیلے والوں کے دل جوڑئیے مرے سردارسروں کو کاٹ کے سرداریاں نہیں چلتیں

برا نہ مان اگر یار کچھ برا کہہ دےدلوں کے کھیل میں خودداریاں نہیں چلتیں

چھلک چھلک پڑیں آنکھوں کی گاگریں اکثرسنبھل سنبھل کے یہ پنہاریاں نہیں چلتیں

جناب کیفؔ یہ دلی ہے میرؔ و غالبؔ کییہاں کسی کی طرف داریاں نہیں چلتیں

— کیف بھوپالی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں