یہ داڑھیاں یہ تلک دھاریاں نہیں چلتیں
کلام: کیف بھوپالی
یہ داڑھیاں یہ تلک دھاریاں نہیں چلتیںہمارے عہد میں مکاریاں نہیں چلتیں
قبیلے والوں کے دل جوڑئیے مرے سردارسروں کو کاٹ کے سرداریاں نہیں چلتیں
داغ دنیا نے دئیے زخم زمانے سے ملے کیف بھوپالی
مہمان شاعر: کیف احمد صدیقی
یہ داڑھیاں یہ تلک دھاریاں نہیں چلتیںہمارے عہد میں مکاریاں نہیں چلتیں
قبیلے والوں کے دل جوڑئیے مرے سردارسروں کو کاٹ کے سرداریاں نہیں چلتیں
تیرا چہرہ صبح کا تارا لگتا ہےصبح کا تارا کتنا پیارا لگتا ہے
تم سے مل کر املی میٹھی لگتی ہےتم سے بچھڑ کر شہد بھی کھارا لگتا ہے