تھوڑا سا عکس چاند کے پیکر میں ڈال دے
کلام: کیف بھوپالی
تھوڑا سا عکس چاند کے پیکر میں ڈال دےتو آ کے جان رات کے منظر میں ڈال دے
جس دن مری جبیں کسی دہلیز پر جھکےاس دن خدا شگاف مرے سر میں ڈال دے
داغ دنیا نے دئیے زخم زمانے سے ملے کیف بھوپالی
مہمان شاعر: کیف احمد صدیقی
تھوڑا سا عکس چاند کے پیکر میں ڈال دےتو آ کے جان رات کے منظر میں ڈال دے
جس دن مری جبیں کسی دہلیز پر جھکےاس دن خدا شگاف مرے سر میں ڈال دے
جب ہمیں مسجد جانا پڑا ہےراہ میں اک مے خانہ پڑا ہے
جائیے اب کیوں جانب صحراشہر تو خود ویرانہ پڑا ہے