10 اشعار

بڑی طَلب تھی ، بڑا اِنتظار ،دیکھو تو

Baṛi talab thi, baṛa intezar, dekho to

بڑی طَلب تھی ، بڑا اِنتظار ،دیکھو تو

«بڑی طَلب تھی ، بڑا اِنتظار ،دیکھو تو» کلیم عاجز کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 22 سیکنڈ ہے۔

بڑی طَلب تھی بڑا اِنتظار، دیکھو توبہار لائی ہے کیسی بہار، دیکھو تو

یہ کیا ہُوا، کہ سلامت نہیں کوئی دامنچَمن میں پُھول کِھلے ہیں کہ خار، دیکھو تو

لہُو دِلوں کا چراغوں میں کل بھی جلتا تھااور آج بھی، ہے وہی کاروبار دیکھو تو

یہاں، ہر اِک رَسَن و دار ہی دِکھاتا ہےعجیب شہر، عَجب شہریار دیکھو تو

نہ کوئی شانہ بچا ہے، نہ کوئی آئینہ!دراز دستیٔ گیسُوئے یار، دیکھو تو

کسی سے پیار نہیں، پھر بھی پیار ہے سب سے!وہ مستِ حُسن، ہے کیا ہوشیار دیکھو تو

وہ چُپ بھی بیٹھے ہے، تو ایسا بن کے بیٹھے ہے!ہر اِک ادا یہ کہے ہے پُکار، دیکھو تو

ابھی تو خُون کا سِندُور ہی لگایا ہےابھی کرے ہے وہ کیا کیا سِنگار، دیکھو تو

اَدا ہَمِیں نے سِکھائی، نَظر ہَمِیں نے دیہَمِیں سے آنکھ چُراؤ ہو یار، دیکھو تو

اَسِیر کر کے ہمیں کیا پِھرے ہے اِتراتاگلے میں ڈالے وہ پھولوں کا ہار، دیکھو تو

— کلیم عاجز