7 اشعار

بلاتے کیوں ہو عاجزؔ کو بلانا کیا مزا دے ہے

Bulāte kyon ho 'Ajiz ko bulana kya maza de hai

بلاتے کیوں ہو عاجزؔ کو بلانا کیا مزا دے ہے

«بلاتے کیوں ہو عاجزؔ کو بلانا کیا مزا دے ہے» کلیم عاجز کا کلام ہے، جسے نگاہ بسمل نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «شاعری ہی بتائے گی مرا نام کیا ہے پتہ ہے کیا(کلیم عاجز)» میں 25 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 4 سیکنڈ ہے۔

بلاتے کیوں ہو عاجزؔ کو بلانا کیا مزا دے ہےغزل کم بخت کچھ ایسی پڑھے ہے دل ہلا دے ہے

محبت کیا بلا ہے چین لینا ہی بھلا دے ہےذرا بھی آنکھ جھپکے ہے تو بیتابی جگا دے ہے

ترے ہاتھوں کی سرخی خود ثبوت اس بات کا دے ہےکہ جو کہہ دے ہے دیوانہ وہ کر کے بھی دکھا دے ہے

غضب کی فتنہ سازی آئے ہے اس آفت جاں کوشرارت خود کرے ہے اور ہمیں تہمت لگا دے ہے

مری بربادیوں کا ڈال کر الزام دنیا پروہ ظالم اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر مسکرا دے ہے

اب انسانوں کی بستی کا یہ عالم ہے کہ مت پوچھولگے ہے آگ اک گھر میں تو ہم سایہ ہوا دے ہے

کلیجہ تھام کر سنتے ہیں لیکن سن ہی لیتے ہیںمرے یاروں کو میرے غم کی تلخی بھی مزا دے ہے

— کلیم عاجز

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں