8 اشعار

کون عاجزؔ صلۂ تشنہ دہانی مانگے

Kaun 'Ajiz sila-e-tishna-dehāni maange

کون عاجزؔ صلۂ تشنہ دہانی مانگے

«کون عاجزؔ صلۂ تشنہ دہانی مانگے» کلیم عاجز کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «شاعری ہی بتائے گی مرا نام کیا ہے پتہ ہے کیا(کلیم عاجز)» میں 25 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

کون عاجزؔ صلۂ تشنہ دہانی مانگےیہ جہاں آگ اسے دیتا ہے جو پانی مانگے

دل بھی گردن بھی ہتھیلی پہ لئے پھرتا ہوںجانے کب کس کا لہو تیری جوانی مانگے

توڑیئے مصلحت وقت کی دیواروں کوراہ جس وقت طبیعت کی روانی مانگے

مانگنا جرم ہے فن کار سے ترتیب خیالگیسوئے وقت جب آشفتہ بیانی مانگے

ساقی تو چاہے تو وہ دور بھی آ سکتا ہےکہ ملے جام شراب اس کو جو پانی مانگے

کس کا سینہ ہے جو زخموں سے نہیں ہے معمورکیا کوئی تجھ سے محبت کی نشانی مانگے

دل تو دے ہی چکا اب ہے یہ ارادہ اپناجان بھی دے دوں جو وہ دشمن جانی مانگے

ہیں مرے شیشۂ صہبائے سخن میں دونوںنئی مانگے کوئی مجھ سے کہ پرانی مانگے

— کلیم عاجز

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں