10 اشعار

زخموں کے نئے پھول کھلانے کے لئے آ

Zakhmon ke naye phool khilane ke liye aa

زخموں کے نئے پھول کھلانے کے لئے آ

«زخموں کے نئے پھول کھلانے کے لئے آ» کلیم عاجز کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 8 سیکنڈ ہے۔

زخموں کے نئے پھول کھلانے کے لئے آپھر موسم گل یاد دلانے کے لئے آ

مستی لئے آنکھوں میں بکھیرے ہوئے زلفیںآ پھر مجھے دیوانہ بنانے کے لئے آ

اب لطف اسی میں ہے مزا ہے تو اسی میںآ اے مرے محبوب ستانے کے لئے آ

آ رکھ دہن زخم پہ پھر انگلیاں اپنیدل بانسری تیری ہے بجانے کے لئے آ

ہاں کچھ بھی تو دیرینہ محبت کا بھرم رکھدل سے نہ آ دنیا کو دکھانے کے لئے آ

مانا کہ مرے گھر سے عداوت ہی تجھے ہےرہنے کو نہ آ آگ لگانے کے لئے آ

پیارے تری صورت سے بھی اچھی ہے جو تصویرمیں نے تجھے رکھی ہے دکھانے کے لئے، آ

آشفتہ کہے ہے کوئی دیوانہ کہے ہےمیں کون ہوں دنیا کو بتانے کے لئے آ

کچھ روز سے ہم شہر میں رسوا نہ ہوئے ہیںآ پھر کوئی الزام لگانے کے لئے آ

اب کے جو وہ آ جائے تو عاجزؔ اسے لے کرمحفل میں غزل اپنی سنانے کے لئے آ

— کلیم عاجز