12 اشعار

مت برا اس کو کہو گرچہ وہ اچھا بھی نہیں

Mat Bura Is Ko Kaho Garche Woh Achha Bhi Nahin

مت برا اس کو کہو گرچہ وہ اچھا بھی نہیں

«مت برا اس کو کہو گرچہ وہ اچھا بھی نہیں» کلیم عاجز کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 28 سیکنڈ ہے۔

مت برا اس کو کہو گرچہ وہ اچھا بھی نہیںوہ نہ ہوتا تو غزل میں کبھی کہتا بھی نہیں

جانتا تھا کہ ستم گر ہے مگر کیا کیجےدل لگانے کے لیے اور کوئی تھا بھی نہیں

جیسا بے درد ہو وہ پھر بھی یہ جیسا محبوبایسا کوئی نہ ہوا اور کوئی ہوگا بھی نہیں

وہی ہوگا جو ہوا ہے جو ہوا کرتا ہےمیں نے اس پیار کا انجام تو سوچا بھی نہیں

ہائے کیا دل ہے کہ لینے کے لیے جاتا ہےاس سے پیمان وفا جس پہ بھروسا بھی نہیں

بارہا گفتگو ہوتی رہی لیکن مرا ناماس نے پوچھا بھی نہیں میں نے بتایا بھی نہیں

تحفہ زخموں کا مجھے بھیج دیا کرتا ہےمجھ سے ناراض ہے لیکن مجھے بھولا بھی نہیں

دوستی اس سے نبہ جائے بہت مشکل ہےمیرا تو وعدہ ہے اس کا تو ارادہ بھی نہیں

میرے اشعار وہ سن سن کے مزے لیتا رہامیں اسی سے ہوں مخاطب وہ یہ سمجھا بھی نہیں

میرے وہ دوست مجھے داد سخن کیا دیں گےجن کے دل کا کوئی حصہ ذرا ٹوٹا بھی نہیں

مجھ کو بننا پڑا شاعر کہ میں ادنیٰ غم دلضبط بھی کر نہ سکا پھوٹ کے رویا بھی نہیں

شاعری جیسی ہو عاجزؔ کی بھلی ہو کہ بریآدمی اچھا ہے لیکن بہت اچھا بھی نہیں

— کلیم عاجز