7 اشعار

اس ناز اس انداز سے تم ہائے چلو ہو

Is Naaz Is Andaaz Se Tum Haye Chalo Ho

اس ناز اس انداز سے تم ہائے چلو ہو

«اس ناز اس انداز سے تم ہائے چلو ہو» کلیم عاجز کا کلام ہے، جسے گریس نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «شاعری ہی بتائے گی مرا نام کیا ہے پتہ ہے کیا(کلیم عاجز)» میں 25 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 54 سیکنڈ ہے۔

اس ناز اس انداز سے تم ہائے چلو ہوروز ایک غزل ہم سے کہلوائے چلو ہو

رکھنا ہے کہیں پاؤں تو رکھو ہو کہیں پاؤںچلنا ذرا آیا ہے تو اترائے چلو ہو

دیوانہ گل قیدئ زنجیر ہیں اور تمکیا ٹھاٹ سے گلشن کی ہوا کھائے چلو ہو

مے میں کوئی خامی ہے نہ ساغر میں کوئی کھوٹپینا نہیں آئے ہے تو چھلکائے چلو ہو

ہم کچھ نہیں کہتے ہیں کوئی کچھ نہیں کہتاتم کیا ہو تمہیں سب سے کہلوائے چلو ہو

زلفوں کی تو فطرت ہی ہے لیکن مرے پیارےزلفوں سے زیادہ تمہیں بل کھائے چلو ہو

وہ شوخ ستم گر تو ستم ڈھائے چلے ہےتم ہو کہ کلیمؔ اپنی غزل گائے چلو ہو

— کلیم عاجز

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں