7 اشعار

میرے ہی لہو پر گزر اوقات کرو ہو

Mere Hi Lahoo Par Guzar Auqaat Karo Ho

میرے ہی لہو پر گزر اوقات کرو ہو

«میرے ہی لہو پر گزر اوقات کرو ہو» کلیم عاجز کا کلام ہے، جسے آدرش نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «شاعری ہی بتائے گی مرا نام کیا ہے پتہ ہے کیا(کلیم عاجز)» میں 25 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 49 سیکنڈ ہے۔ یہ کلام سحرِ بیاں کی محفلوں میں 2 مرتبہ پیش کیا جا چکا ہے۔

میرے ہی لہو پر گزر اوقات کرو ہومجھ سے ہی امیروں کی طرح بات کرو ہو

دن ایک ستم ایک ستم رات کرو ہووہ دوست ہو دشمن کو بھی تم مات کرو ہو

ہم خاک نشیں تم سخن آرائے سر بامپاس آ کے ملو دور سے کیا بات کرو ہو

ہم کو جو ملا ہے وہ تمہیں سے تو ملا ہےہم اور بھلا دیں تمہیں کیا بات کرو ہو

یوں تو کبھی منہ پھیر کے دیکھو بھی نہیں ہوجب وقت پڑے ہے تو مدارات کرو ہو

دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغتم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو

بکنے بھی دو عاجزؔ کو جو بولے ہے بکے ہےدیوانہ ہے دیوانے سے کیا بات کرو ہو

— کلیم عاجز

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں