5 اشعار

مرا حال پوچھ کے ہم نشیں مرے سوز دل کو ہوا نہ دے

Mera Haal Pooch Ke Hamnasheen Mere Soz-e-Dil Ko Hawa Na De

مرا حال پوچھ کے ہم نشیں مرے سوز دل کو ہوا نہ دے

«مرا حال پوچھ کے ہم نشیں مرے سوز دل کو ہوا نہ دے» کلیم عاجز کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 59 سیکنڈ ہے۔

مرا حال پوچھ کے ہم نشیں مرے سوز دل کو ہوا نہ دےبس یہی دعا میں کروں ہوں اب کہ یہ غم کسی کو خدا نہ دے

یہ جو زخم دل کو پکائے ہم لئے پھر رہے ہیں چھپائے ہمکوئی نا شناس مزاج غم کہیں ہاتھ اس کو لگا نہ دے

تو جہاں سے آج ہے نکتہ چیں کبھی مدتوں میں رہا وہیںمیں گدائے راہ گزر نہیں مجھے دور ہی سے صدا نہ دے

تب و تاب عشق کا ہے کرم کہ جمی ہے محفل چشم نمذرا دیکھیو اے ہوائے غم یہ چراغ کوئی بجھا نہ دے

وہ جو شاعری کا سبب ہوا وہ معاملہ بھی عجب ہوامیں غزل سناؤں ہوں اس لئے کہ زمانہ اس کو بھلا نہ دے

— کلیم عاجز