7 اشعار

وہ ستم نہ ڈھائے تو کیا کرے اسے کیا خبر کہ وفا ہے کیا؟

Woh Sitam Na Dhaye To Kya Kare Use Kya Khabar Ke Wafa Hai Kya?

وہ ستم نہ ڈھائے تو کیا کرے اسے کیا خبر کہ وفا ہے کیا؟

«وہ ستم نہ ڈھائے تو کیا کرے اسے کیا خبر کہ وفا ہے کیا؟» کلیم عاجز کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «شاعری ہی بتائے گی مرا نام کیا ہے پتہ ہے کیا(کلیم عاجز)» میں 25 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 14 سیکنڈ ہے۔

وہ ستم نہ ڈھائے تو کیا کرے اسے کیا خبر کہ وفا ہے کیا؟تو اسی کو پیار کرے ہے کیوں یہ کلیمؔ تجھ کو ہوا ہے کیا؟

تجھے سنگ دل یہ پتہ ہے کیا کہ دکھے دلوں کی صدا ہے کیا؟کبھی چوٹ تو نے بھی کھائی ہے کبھی تیرا دل بھی دکھا ہے کیا؟

تو رئیس شہر ستم گراں میں گدائے کوچۂ عاشقاںتو امیر ہے تو بتا مجھے میں غریب ہوں تو برا ہے کیا؟

تو جفا میں مست ہے روز و شب میں کفن بہ دوش و غزل بہ لبترے رعب حسن سے چپ ہیں سب میں بھی چپ رہوں تو مزا ہے کیا؟

یہ کہاں سے آئی ہے سرخ رو ہے ہر ایک جھونکا لہو لہوکٹی جس میں گردن آرزو یہ اسی چمن کی ہوا ہے کیا؟

ابھی تیرا دور شباب ہے ابھی کیا حساب و کتاب ہےابھی کیا نہ ہوگا جہان میں ابھی اس جہاں میں ہوا ہے کیا؟

یہی ہم نوا یہی ہم سخن یہی ہم نشاں یہی ہم وطنمری شاعری ہی بتائے گی مرا نام کیا ہے پتا ہے کیا؟

— کلیم عاجز

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں