6 اشعار

مجھے اس کا کوئی گلہ نہیں کہ بہار نے مجھے کیا دیا

Mujhe Is Ka Koi Gila Nahin Ke Bahar Ne Mujhe Kya Diya

مجھے اس کا کوئی گلہ نہیں کہ بہار نے مجھے کیا دیا

«مجھے اس کا کوئی گلہ نہیں کہ بہار نے مجھے کیا دیا» کلیم عاجز کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ ہے۔

مجھے اس کا کوئی گلہ نہیں کہ بہار نے مجھے کیا دیاتری آرزو تو نکال دی ترا حوصلہ تو بڑھا دیا

گو ستم نے تیرے ہر اک طرح مجھے ناامید بنا دیایہ مری وفا کا کمال ہے کہ نباہ کر کے دکھا دیا

کوئی بزم ہو کوئی انجمن یہ شعار اپنا قدیم ہےجہاں روشنی کی کمی ملی وہیں اک چراغ جلا دیا

تجھے اب بھی میرے خلوص کا نہ یقین آئے تو کیا کروںترے گیسوؤں کو سنوار کر تجھے آئنہ بھی دکھا دیا

میری شاعری میں ترے سوا کوئی ماجرا ہے نہ مدعاجو تری نظر کا فسانہ تھا وہ مری غزل نے سنا دیا

یہ غریب عاجزؔ بے وطن یہ غبار خاطر انجمنیہ خراب جس کے لئے ہوا اسی بے وفا نے بھلا دیا

— کلیم عاجز