7 اشعار

یہ دیوانے کبھی پابندیوں کا غم نہیں لیں گے

Yeh deewane kabhi pabandiyon ka gham nahin lenge

یہ دیوانے کبھی پابندیوں کا غم نہیں لیں گے

«یہ دیوانے کبھی پابندیوں کا غم نہیں لیں گے» کلیم عاجز کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 51 سیکنڈ ہے۔

یہ دیوانے کبھی پابندیوں کا غم نہیں لیں گےگریباں چاک جب تک کر نہ لیں گے دم نہیں لیں گے

لہو دیں گے تو لیں گے پیار موتی ہم نہیں لیں گےہمیں پھولوں کے بدلے پھول دو شبنم نہیں لیں گے

یہ غم کس نے دیا ہے پوچھ مت اے ہم نشیں ہم سےزمانہ لے رہا ہے نام اس کا ہم نہیں لیں گے

محبت کرنے والے بھی عجب خوددار ہوتے ہیںجگر پر زخم لیں گے زخم پر مرہم نہیں لیں گے

غم دل ہی کے ماروں کو غم ایام بھی دے دوغم اتنا لینے والے کیا اب اتنا غم نہیں لیں گے

سنوارے جا رہے ہیں ہم الجھتی جاتی ہیں زلفیںتم اپنے ذمہ لو اب یہ بکھیڑا ہم نہیں لیں گے

شکایت ان سے کرنا گو مصیبت مول لینا ہےمگر عاجزؔ غزل ہم بے سنائے دم نہیں لیں گے

— کلیم عاجز