تلخیاں اس میں بہت کچھ ہیں مزا کچھ بھی نہیں
کلام: کلیم عاجز
تلخیاں اس میں بہت کچھ ہیں مزا کچھ بھی نہیںزندگی درد محبت کے سوا کچھ بھی نہیں
شمع خاموش بھی رہتے ہوئے خاموش کہاںاس طرح کہہ دیا سب کچھ کہ کہا کچھ بھی نہیں
شاعری ہی بتائے گی مرا نام کیا ہے پتہ ہے کیا(کلیم عاجز)
مہمان شاعر: کلیم عاجز
تلخیاں اس میں بہت کچھ ہیں مزا کچھ بھی نہیںزندگی درد محبت کے سوا کچھ بھی نہیں
شمع خاموش بھی رہتے ہوئے خاموش کہاںاس طرح کہہ دیا سب کچھ کہ کہا کچھ بھی نہیں