5 اشعار

تجھے کلیمؔ کوئی کیسے خوش کلام کہے

Tujhe Kaleemؔ koi kaise khush kalam kahe

تجھے کلیمؔ کوئی کیسے خوش کلام کہے

«تجھے کلیمؔ کوئی کیسے خوش کلام کہے» کلیم عاجز کا کلام ہے، جسے راجا اکرام قمر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «شاعری ہی بتائے گی مرا نام کیا ہے پتہ ہے کیا(کلیم عاجز)» میں 25 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 33 سیکنڈ ہے۔ یہ کلام سحرِ بیاں کی محفلوں میں 2 مرتبہ پیش کیا جا چکا ہے۔

تجھے کلیمؔ کوئی کیسے خوش کلام کہےجو دن کو رات بتائے سحر کو شام کہے

پئے بغیر کہو تو یہ تشنہ کام کہےوہ راز مے جو صراحی کہے نہ جام کہے

نہ جانے روٹھ کے بیٹھا ہے دل کا چین کہاںملے تو اس کو ہمارا کوئی سلام کہے

کہوں جو برہمن و شیخ سے حقیقت عشقخدا خدا یہ پکارے وہ رام رام کہے

میں غم کی راگنی بے وقت بھی اگر چھیڑوںزبان وقت مجھے وقت کا امام کہے

— کلیم عاجز

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں