6 اشعار

تم گل تھے ہم نکھار ابھی کل کی بات ہے

Tum Gul The Hum Nikhaar Abhi Kal Ki Baat Hai

تم گل تھے ہم نکھار ابھی کل کی بات ہے

«تم گل تھے ہم نکھار ابھی کل کی بات ہے» کلیم عاجز کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «شاعری ہی بتائے گی مرا نام کیا ہے پتہ ہے کیا(کلیم عاجز)» میں 25 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 54 سیکنڈ ہے۔

تم گل تھے ہم نکھار ابھی کل کی بات ہےہم سے تھی سب بہار ابھی کل کی بات ہے

بیگانہ سمجھو غیر کہو اجنبی کہواپنوں میں تھا شمار ابھی کل کی بات ہے

آج اپنے پاس سے ہمیں رکھتے ہو دور دورہم بن نہ تھا قرار ابھی کل کی بات ہے

اترا رہے ہو آج پہن کر نئی قبادامن تھا تار تار ابھی کل کی بات ہے

آج اس قدر غرور یہ انداز یہ مزاجپھرتے تھے میر خوار ابھی کل کی بات ہے

انجان بن کے پوچھتے ہو ہے یہ کب کی باتکل کی ہے بات یار ابھی کل کی بات ہے

— کلیم عاجز

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں