اگر یوں ہی یہ دل ستاتا رہے گا
کلام: خواجہ میر درد
اگر یوں ہی یہ دل ستاتا رہے گاتو اک دن مرا جی ہی جاتا رہے گا
میں جاتا ہوں دل کو ترے پاس چھوڑےمری یاد تجھ کو دلاتا رہے گا
باغ جہاں کے گل ہیں یا خار ہیں تو ہم ہیں (خواجہ میردرد)
مہمان شاعر: خواجہ میر درد
اگر یوں ہی یہ دل ستاتا رہے گاتو اک دن مرا جی ہی جاتا رہے گا
میں جاتا ہوں دل کو ترے پاس چھوڑےمری یاد تجھ کو دلاتا رہے گا
سحر ہوتے ہی اٹھ کر وہ جو گھر سے باہر آ نکلاادھر ہی اتفاقاً پھرتے پھرتے میں بھی جا نکلا
مرے دل کو جو تو ہر دم بھلا اتنا ٹٹولے ہےتصور کے سوا تیرے بتا تو اس میں کیا نکلا