6 اشعار

یاں عیش کے پردے میں چھپی دل شکنی ہے

YaaN aish ke parde meiN chhupi dil-shikani hai

یاں عیش کے پردے میں چھپی دل شکنی ہے

«یاں عیش کے پردے میں چھپی دل شکنی ہے» خواجہ میر درد کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «باغ جہاں کے گل ہیں یا خار ہیں تو ہم ہیں (خواجہ میردرد)» میں 11 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 47 سیکنڈ ہے۔

یاں عیش کے پردے میں چھپی دل شکنی ہےہر بزمِ طرب، جوں مژہ، برہم زدنی ہے

دل ٹکڑے کیا ہے یہ مرا،کس کے لبوں نےجو لخت ہے، سو رشکِ عقیقِ یمنی ہے

کیا کام مجھے خوف درجا سے، کہ میرے پاسہے جان، سو بے جان ہے، دل ہے سو غنی ہے

تن پروری خلق مبارک ہو انہیں، یہاںجوں نقش قدم، اور ہی آسودہ تنی ہے

آجے جو بلا آئی تھی، سو دل پہ ٹلی تھیاب کے تو مری جان ہی پر آن بنی ہے

اے درد! کہوں کس سے، بتا رازِ محبتعالم میں، سخن چینی ہے یا طعنہ زنی ہے

— خواجہ میر درد

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں