8 اشعار

تجھی کو جو یاں جلوہ فرما نہ دیکھا

Tujhi ko jo yaan jalwa farma na dekha

تجھی کو جو یاں جلوہ فرما نہ دیکھا

«تجھی کو جو یاں جلوہ فرما نہ دیکھا» خواجہ میر درد کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «باغ جہاں کے گل ہیں یا خار ہیں تو ہم ہیں (خواجہ میردرد)» میں 11 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 56 سیکنڈ ہے۔

تجھی کو جو یاں جلوہ فرما نہ دیکھابرابر ہے دنیا کو دیکھا نہ دیکھا

مرا غنچۂ دل ہے وہ دل گرفتہکہ جس کو کسو نے کبھو وا نہ دیکھا

یگانہ ہے تو آہ بیگانگی میںکوئی دوسرا اور ایسا نہ دیکھا

اذیت مصیبت ملامت بلائیںترے عشق میں ہم نے کیا کیا نہ دیکھا

کیا مج کو داغوں نے سرو چراغاںکبھو تو نے آ کر تماشا نہ دیکھا

تغافل نے تیرے یہ کچھ دن دکھائےادھر تو نے لیکن نہ دیکھا نہ دیکھا

حجاب رخ یار تھے آپ ہی ہمکھلی آنکھ جب کوئی پردا نہ دیکھا

شب و روز اے دردؔ در پے ہوں اس کےکسو نے جسے یاں نہ سمجھا نہ دیکھا

— خواجہ میر درد

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں